قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ آدَابِ الْقُضَاةِ (بَابُ مَا يَقْطَعُ الْقَضَاءُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

5422.   أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَإِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنْ النَّارِ

سنن نسائی:

کتاب: قضا اور قاضیوں کے آداب و مسائل کا بیان 

  (

باب: فیصلے کےنتیجے میں جوکچھ حاصل ہواس کابیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5422.   حضرت ام سلمہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میرے پاس جھگڑے لاتے ہو۔ میں تو بس ایک انسان ہی ہوں۔ ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی دلیل کو دوسرے شخص سے زیادہ واضح طور پربیان کرنے والا ہو۔ میں تو تمھارے درمیان دلائل سن کر (ان کے مطابق) فیصلہ کر دوں گا۔ (لیکن یاد رکھو!) میں جس شخص کے لیے اس کے (اسلامی) بھائی کے حق میں سے کسی چیز کا فیصلہ کر دوں تو درحقیقت میں اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں۔“