قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابٌ تَفْسِيرُ الْبِتْعِ وَالْمِزْرِ)

حکم : حسن الإسناد

ترجمۃ الباب:

5603.   أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ الْأَجْلَحِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً فَمَا أَشْرَبُ وَمَا أَدَعُ قَالَ وَمَا هِيَ قُلْتُ الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ قَالَ وَمَا الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ قُلْتُ أَمَّا الْبِتْعُ فَنَبِيذُ الْعَسَلِ وَأَمَّا الْمِزْرُ فَنَبِيذُ الذُّرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَشْرَبْ مُسْكِرًا فَإِنِّي حَرَّمْتُ كُلَّ مُسْكِرٍ

سنن نسائی:

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: بتع اور مزر کی تفسیر

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5603.   حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ نےفرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن کی طرف (مبلغ اور امیر بنا کر) بھیجا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہاں کئی قسم کے مشروب استعمال ہوتے ہیں۔ میں ان میں سے کون سا پیوں، کو ن سا ترک کروں؟ آپ نے فرمایا: مثلا: ”وہ کو ن کون سے ہیں؟“ میں نےکہا: بتع اور مزر۔ آپ نے فرمایا: ”یہ کیا ہوتے ہیں؟ میں نے کہا: بتع تو شہد کی نبیذ ہوتی ہے اورمزر مکئی کی نبیذ ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کو ئی نشہ آورمشروب نہ پینا کیونکہ میں ہر نشہ آور مشروب کو حرام قرار دے چکا ہوں۔“