قسم الحديث (القائل): موقوف اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ ذِكْرِ الْأَخْبَارِ الَّتِي اعْتَلَّ بِهَا مَنْ أَبَاحَ شَرَابَ السُّكْرِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

5687.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيِّ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ عَنْ الْبَاذَقِ فَقَالَ سَبَقَ مُحَمَّدٌ الْبَاذَقَ وَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ قَالَ أَنَا أَوَّلُ الْعَرَبِ سَأَلَهُ

سنن نسائی:

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: وہ احادیث جن سے بعض لوگوں نے نشہ آور مشروب پینے کا جواز نکالا ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5687.   حضرت ابوالجویریہ جرمی سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ کعبہ شریف سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے کہ میں نے ان سے باذق کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا حضرت محمد ﷺ باذق (شراب) سے پہلے تشریف لے گئے (لیکن آپ کا فرمان موجود ہے) ہر نشہ آور مشروب حرام ہے۔ ابوالجویریہ نے کہا کہ میں پہلا عربی تھا جس نے ان سے باذق کے بارے میں پوچھا۔