قسم الحديث (القائل): موقوف اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ ذِكْرِ الْأَخْبَارِ الَّتِي اعْتَلَّ بِهَا مَنْ أَبَاحَ شَرَابَ السُّكْرِ)

حکم : صحیح الإسناد موقوف

ترجمۃ الباب:

5691.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ كُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَنَهَى عَنْهُ قُلْتُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ إِنِّي أَنْتَبِذُ فِي جَرَّةٍ خَضْرَاءَ نَبِيذًا حُلْوًا فَأَشْرَبُ مِنْهُ فَيُقَرْقِرُ بَطْنِي قَالَ لَا تَشْرَبْ مِنْهُ وَإِنْ كَانَ أَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ

سنن نسائی:

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: وہ احادیث جن سے بعض لوگوں نے نشہ آور مشروب پینے کا جواز نکالا ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5691.   حضرت ابو حمزہ نے کہا میں حضرت ابن عباس ؓ اور لوگوں (سائلین) کے درمیان ترجمانی کا فریضہ انجام دیا کرتا تھا۔ ایک عورت ان کے پاس آئی اور مٹکے نبیذ کے بارے میں پوچھنے لگی۔ انھوں نے اس سے منع فرمایا۔ میں نے کہا: اے ابو عباس! میں سبز روغنی مٹکے میں میٹھی نبیذ بناتا ہوں، پھر اس میں سے پیتا ہوں تو میرے پیٹ میں گڑ گڑ ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسی نبیذ مت پی، اگرچہ وہ شہد سے زیادہ میٹھی ہو۔