قسم الحديث (القائل): موقوف اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ ذِكْرِ الْأَخْبَارِ الَّتِي اعْتَلَّ بِهَا مَنْ أَبَاحَ شَرَابَ السُّكْرِ)

حکم : ضعيف الإسناد موقوف

ترجمۃ الباب:

5702.   أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ السَّعِيدِيِّ قَالَ حَدَّثَتْنِي رُقَيَّةُ بِنْتُ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ قَالَتْ كُنْتُ فِي حَجْرِ ابْنِ عُمَرَ فَكَانَ يُنْقَعُ لَهُ الزَّبِيبُ فَيَشْرَبُهُ مِنْ الْغَدِ ثُمَّ يُجَفَّفُ الزَّبِيبُ وَيُلْقَى عَلَيْهِ زَبِيبٌ آخَرُ وَيُجْعَلُ فِيهِ مَاءٌ فَيَشْرَبُهُ مِنْ الْغَدِ حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ الْغَدِ طَرَحَهُ وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو

سنن نسائی:

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: وہ احادیث جن سے بعض لوگوں نے نشہ آور مشروب پینے کا جواز نکالا ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5702.   حضرت رقیہ بنت عمرو بن سعید نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ  کے گھر پرورش پائی ہے۔ آپ کے لیے منقیٰ پانی ڈالا جاتا۔ آپ اگلی صبح اس پانی کو پی لیتے اور منقیٰ خشک کر لیا جاتا۔ پھر ان میں اور منقی ملا کر مزید پانی ڈال دیا جاتا۔ اسے آپ اگلے دن پی لیتے۔ اس کے بعد اس منقیٰ کوپھینک دیتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے حضرت ابو مسعود عقبہ بن عمر ؓ کی آئندہ روایات سے بھی استدلال کیا ہے۔