قسم الحديث (القائل): موقوف اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ ذِكْرِ الْأَخْبَارِ الَّتِي اعْتَلَّ بِهَا مَنْ أَبَاحَ شَرَابَ السُّكْرِ)

حکم : صحیح الإسناد

ترجمۃ الباب:

5708.   قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ إِنِّي وَجَدْتُ مِنْ فُلَانٍ رِيحَ شَرَابٍ فَزَعَمَ أَنَّهُ شَرَابُ الطِّلَاءِ وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبَ فَإِنْ كَانَ مُسْكِرًا جَلَدْتُهُ فَجَلَدَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْحَدَّ تَامًّا

سنن نسائی:

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: وہ احادیث جن سے بعض لوگوں نے نشہ آور مشروب پینے کا جواز نکالا ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5708.   حضرت سائب بن یزید نے بیان فرمایا کہ ایک دفعہ حضرت عمر بن خطاب ؓ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ میں نے فلاں شخص سے شراب کی بو محسوس کی ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ یہ طلاء کی شراب ہے۔ میں اس کے بارے میں پوچھ گچھ کروں گا۔ اگر وہ طلاء نشہ آور ثابت ہوا تو میں اس پر حد لگاؤں گا۔ پھر(تحقیق کے بعد) حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اس پر پوری حد لگائی۔