قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ ذِكْرِ مَا أَعَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِشَارِبِ الْمُسْكِرِ، مِنَ الذُّلِّ، وَالْهَوَانِ، وَأَلِيمِ الْعَذَابِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

5709.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ جَيْشَانَ وَجَيْشَانُ مِنْ الْيَمَنِ قَدِمَ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنْ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمُسْكِرٌ هُوَ قَالَ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَهِدَ لِمَنْ شَرِبَ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ قَالَ عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ أَوْ قَالَ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ

سنن نسائی:

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: اس ذلت ورسوائی اور دردناک عذاب کا بیان جو اللہ عزوجل نے نشہ آور مشروب پینے والے کے لیے تیار رکھا ہے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5709.   حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جیشان سے آیا اور جیشان یمن میں ہے اور رسول اللہ ﷺ سے پوچھنے لگا کہ ہمارے علاقے میں لوگ ایک مشروب پیتے ہیں جو وہ چینے سے تیار کرتے ہیں۔ اسے مزر کہا جاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے پوچھا: کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ یقیناً اللہ تعالٰی نے قسم کھا رکھی ہے کہ جو شخص نشہ آور مشروب پیے گا، اللہ تعالی اسے طينة الخبال پلائے گا۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! طينة الخبال کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جہنمیوں کا پسینہ“ یا فرمایا ”جہنمیوں کا پیپ“ (جو ان کے زخموں سے نکلے گا)۔