قسم الحديث (القائل): موقوف اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ الْكَرَاهِيَةِ فِي بَيْعِ الْعَصِيرِ)

حکم : صحیح الإسناد موقوف

ترجمۃ الباب:

5713.   أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ دِينَارٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ كَانَ لِسَعْدٍ كُرُومٌ وَأَعْنَابٌ كَثِيرَةٌ وَكَانَ لَهُ فِيهَا أَمِينٌ فَحَمَلَتْ عِنَبًا كَثِيرًا فَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنِّي أَخَافُ عَلَى الْأَعْنَابِ الضَّيْعَةَ فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ أَعْصُرَهُ عَصَرْتُهُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ سَعْدٌ إِذَا جَاءَكَ كِتَابِي هَذَا فَاعْتَزِلْ ضَيْعَتِي فَوَاللَّهِ لَا أَئْتَمِنُكَ عَلَى شَيْءٍ بَعْدَهُ أَبَدًا فَعَزَلَهُ عَنْ ضَيْعَتِهِ

سنن نسائی:

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: انگوروں کا جوس بیچنا منع ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5713.   حضرت مصعب بن سعد سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ (والد محترم ) حضرت سعد ؓ کی ملکیت میں انگور کی بہت سی بیلیں اور درخت تھے۔ وہاں انھوں نے ایک شخص کو بطور ذمہ دار ناظم رکھا ہوا تھا۔ ایک سال بہت پھل لگا۔ ناظم نے ان کو لکھا مجھے خطرہ ہے انگور ضائع ہوجائیں گے۔ اگر آپ اجازت دیں تو ہم ان کا جوس نکال لیں۔ حضرت سعد ؓ نے اسے جواب میں لکھا جب میرا یہ ضط تیرے پاس پہنچے تو میری زمین سے نکل جانا۔ اللہ کی قسم! آج کے بعد میں تجھے کسی معمولی چیز کا بھی ذمہ دار نہیں بناؤں گا۔ اور واقعتاً انھوں نے اسے اپنی زمین سے معزول کردیا۔