قسم الحديث (القائل): موقوف اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ ذِكْرِ مَا يَجُوزُ شُرْبُهُ مِنَ الطِّلَاءِ، وَمَا لَا يَجُوزُ)

حکم : حسن صحيح موقوف

ترجمۃ الباب:

5715.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ سَمِعْتُ مَنْصُورًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ نُبَاتَةَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى بَعْضِ عُمَّالِهِ أَنْ ارْزُقْ الْمُسْلِمِينَ مِنْ الطِّلَاءِ مَا ذَهَبَ ثُلُثَاهُ وَبَقِيَ ثُلُثُهُ

سنن نسائی:

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کون سا طلاء پینا جائز ہے اور کون سا ناجائز ہے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5715.   حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اپنے ایک گورنر کو خط لکھا کہ مسلمانوں کو وہ طلاء پینے دو جس میں دو تہائی جوس خشک ہو چکا ہو اور ایک تہائی باقی رہ گیا ہو۔