قسم الحديث (القائل): موقوف اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ ذِكْرِ مَا يَجُوزُ شُرْبُهُ مِنَ الطِّلَاءِ، وَمَا لَا يَجُوزُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

5717.   أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ قَالَ كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَّا بَعْدُ فَاطْبُخُوا شَرَابَكُمْ حَتَّى يَذْهَبَ مِنْهُ نَصِيبُ الشَّيْطَانِ فَإِنَّ لَهُ اثْنَيْنِ وَلَكُمْ وَاحِدٌ

سنن نسائی:

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کون سا طلاء پینا جائز ہے اور کون سا ناجائز ہے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5717.   حضر ت عبداللہ بن یزید خطمی سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے ہم کو لکھا: حمد وصلوۃ کے بعد تم انگور کے جوس کو اتنا پکاؤ کہ اس میں سے شیطان کا حصہ ختم ہوجائے۔ دو حصے اس کے ہیں، ایک حصہ تمھارا ہے۔