قسم الحديث (القائل): مرقوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْقِبْلَةِ (بَابُ اسْتِبَانَةِ الْخَطَإِ بَعْدَ الِاجْتِهَادِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

745.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ جَاءَهُمْ آتٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ

سنن نسائی:

کتاب: قبلے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: باوجود کوشش کے(نماز پڑھ لینے کے بعدسمت قبلہ کی)غلطی کا واضح ہونا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

745.   حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ لوگ قباء (کی مسجد) میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آنے والا ان کے پاس آیا اور اس نے کہا: تحقیق رسول اللہ ﷺ پر آج رات وحی اتری ہے اور آپ کو کعبے کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا تم بھی کعبے کی طرف منہ کرلو۔ ان کے چہرے شام کی طرف تھے، وہ کعبے کی طرف گھوم گئے۔