قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْإِمَامَةِ (بَابُ مَا يَقُولُ الْإِمَامُ إِذَا تَقَدَّمَ فِي تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

812.   أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَوَاتِقَنَا وَيَقُولُ اسْتَوُوا وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ وَلْيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ

سنن نسائی:

کتاب: امامت کے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: جب امام جماعت کے لیے آگے بڑھے تو صفیں سیدھی کرنے کے لیے کون سے کلمات کہے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

812.   حضرت ابو مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے کندھوں کو پکڑتے اور فرماتے: سیدھے ہو جاؤ اور آگے پیچھے نہ کھڑے ہو ورنہ تمھارے دل بدل جائیں گے (ان میں پھوٹ پڑ جائے گی)۔ اور میرے قریب تم میں سے عقل مند (بالغ) اور سمجھ دار لوگ کھڑے ہوں پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہیں پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہیں۔