قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: صفات و شمائل للنبی صلی اللہ علیہ وسلم

سنن النسائي: كِتَابُ الِافْتِتَاحِ (بَابُ فَضْلِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

912.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام إِذْ سَمِعَ نَقِيضًا فَوْقَهُ فَرَفَعَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ هَذَا بَابٌ قَدْ فُتِحَ مِنْ السَّمَاءِ مَا فُتِحَ قَطُّ قَالَ فَنَزَلَ مِنْهُ مَلَكٌ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلَكَ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَخَوَاتِيمِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ لَمْ تَقْرَأْ حَرْفًا مِنْهُمَا إِلَّا أُعْطِيتَهُ

سنن نسائی:

کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل 

  (

باب: سورۂ فاتحہ کی فضیلت

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

912.   حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جبریل ؑ موجود تھے کہ آپ نے اپنے اوپر دروازہ کھلنے کی سی آواز (چرچراہٹ) سنی۔ جبریل ؑ نے اپنی نگاہ اوپر (آسمان) کی طرف اٹھائی اور کہا: یہ آسمان کا وہ دروازہ کھلا ہے جو کبھی نہیں کھلا، پھر اس سے ایک فرشتہ اترا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: آپ خوش ہوجائیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو نور عطا فرمائے ہیں جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے: فاتحۃ الکتاب اور سورۂ بقرہ کی آخری آیات۔ آپ ان دونوں میں سے جو حرف بھی پڑھیں گے، وہ دیے جائیں گے۔