قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الِافْتِتَاحِ (بَابُ جَامِعِ مَا جَاءَ فِي الْقُرْآنِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

933.   أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلَ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ قَالَ فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صُورَةِ الْفَتَى فَيَنْبِذُهُ إِلَيَّ

سنن نسائی:

کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل 

  (

باب: قرآن مجید کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

933.   حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے مروی ہے کہ حضرت حارث بن ہشام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”گھنٹی کی آواز کی طرح۔ جب وہ موقوف ہوتی ہے تو میں فرشتے کا پیغام یاد کر چکا ہوتا ہوں۔ تحقیق یہ وحی مجھ پر بہت گراں گزرتی ہے۔ اور کبھی (وحی لانے والا فرشتہ) ایک نوجوان کی صورت میں میرے پاس آتا ہے جو مجھ پر وحی ڈالتا ہے۔“