قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ الِافْتِتَاحِ (بَابُ تَخْفِيفِ الْقِيَامِ وَالْقِرَاءَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

981.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ صَلَّيْتُمْ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ يَا جَارِيَةُ هَلُمِّي لِي وَضُوءًا مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ هَذَا قَالَ زَيْدٌ وَكَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَيُخَفِّفُ الْقِيَامَ وَالْقُعُودَ

سنن نسائی:

کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل 

  (

باب: (امام کا) قیام اور قراءت میں تخفیف کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

981.   حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ہم حضرت انس بن مالک ؓ کے پاس گئے، آپ نے فرمایا: تم نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: ہاں۔ آپ نے لونڈی سے فرمایا: میرے لیے وضو کا پانی لاؤ۔ (پھر فرمایا:) میں نے کسی ایسے امام کے پیچھے نمازنہیں پڑھی جو تمھارے اس امام (حضرت عمر بن عبدالعزیز) سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ جیسی نماز پڑھتا ہو۔ حضرت زید نے کہا: حضرت عمر بن عبدالعزیز رکوع اور سجدہ مکمل کرتے تھے اور قیام وقعود ہلکا کرتے تھے۔