موضوعات
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْجَنَائِزِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ عِنْدَ الْمَوْتِ)
حکم : ضعیف جداً
1014 . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَامُ بْنُ الْمِصَكِّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَال سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنُ تَخْرُجُ رَشْحًا وَلَا أُحِبُّ مَوْتًا كَمَوْتِ الْحِمَارِ قِيلَ وَمَا مَوْتُ الْحِمَارِ قَالَ مَوْتُ الْفَجْأَةِ
جامع ترمذی:
كتاب: جنازے کے احکام ومسائل
(باب: موت کے وقت کی سختی کا بیان
)مترجم: ٢. فضيلة الدكتور عبد الرحمٰن الفريوائي ومجلس علمي (دار الدّعوة، دهلي)
1014. عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ’’مومن کی جان تھوڑا تھوڑا کر کے نکلتی ہے جیسے جسم سے پسینہ نکلتا ہے اور مجھے گدھے جیسی موت پسند نہیں‘‘۔ عرض کیا گیا: گدھے کی موت کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’اچانک موت‘‘۔