قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْأَضَاحِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ الأَذَانِ فِي أُذُنِ الْمَوْلُودِ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1516.   حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ سِبَاعٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ كُرْزٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ عَنْ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنْ الْأُنْثَى وَاحِدَةٌ وَلَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

جامع ترمذی:

كتاب: قربانی کے احکام ومسائل 

  (

باب: نومولودکے کان میں اذان کہنے کا بیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1516.   ام کرز‬ ؓ ک‬ہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا توآپﷺ نے فرمایا: ’’لڑکے کی طرف سے دوبکریاں اورلڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے گی، وہ جانورنریا ہو مادہ اس میں تمہارے لیے کوئی حرج نہیں‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔