قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ النُّذُورِ وَالْأَيْمَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يَحْلِفُ بِالْمَشْيِ وَلاَ يَسْتَطِيعُ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1537.   حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْخٍ كَبِيرٍ يَتَهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ فَقَالَ مَا بَالُ هَذَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ قَالَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ .

جامع ترمذی:

كتاب: نذراورقسم (حلف) کے احکام ومسائل 

  (

باب: پیدل چلنے کی قسم کھائے اورنہ چل سکے تو اس کے حکم کا بیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1537.   انس ؓ کہتے ہیں: نبی اکرمﷺ ایک بوڑھے کے قریب سے گزرے جواپنے دوبیٹوں کے سہارے (حج کے لیے) چل رہاتھا آپﷺ نے پوچھا: کیا معاملہ ہے ان کا؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول انہوں نے (پیدل) چلنے کی نذرمانی ہے، آپﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل اس کے اپنی جان کو عذاب دینے سے بے نیاز پھر آپﷺ نے اس کو سوار ہونے کا حکم دیا۔