قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْأَشْرِبَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ​)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

1887.   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَيُّوبَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْمُثَنَّى الْجُهَنِيَّ يَذْكُرُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ النَّفْخِ فِي الشُّرْبِ فَقَالَ رَجُلٌ الْقَذَاةُ أَرَاهَا فِي الْإِنَاءِ قَالَ أَهْرِقْهَا قَالَ فَإِنِّي لَا أَرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ قَالَ فَأَبِنْ الْقَدَحَ إِذَنْ عَنْ فِيكَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

جامع ترمذی:

كتاب: مشروبات( پینے والی چیزوں)کے احکام و مسائل 

  (

باب: پینے کی چیزمیں پھونکنے کی کراہت کابیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1887.   ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پینے کی چیزمیں پھونکنے سے منع فرمایا، ایک آدمی نے عرض کیا: برتن میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھوں تو کیا کروں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’اسے بہادو‘‘، اس نے عرض کیا: میں ایک سانس میں سیراب نہیں ہو پاتا ہوں، آپﷺ نے فرمایا: ’’تب (سانس لیتے وقت) پیالہ اپنے منہ سے ہٹالو‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔