قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الطِّبِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّوَاءِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2038.   حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ قَالَتْ الْأَعْرَابُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَتَدَاوَى قَالَ نَعَمْ يَا عِبَادَ اللَّهِ تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ شِفَاءً أَوْ قَالَ دَوَاءً إِلَّا دَاءً وَاحِدًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُوَ قَالَ الْهَرَمُ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي خُزَامَةَ عَنْ أَبِيهِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

جامع ترمذی:

كتاب: طب (علاج ومعالجہ) کے احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: علاج کرنے کی ترغیب کابیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2038.   اسامہ بن شریک ؓ کہتے ہیں: اعرابیوں(بدؤں) نے پوچھا: اللہ کے رسولﷺ! کیا ہم (بیماریوں کا) علاج کریں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ کے بندو! علاج کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیداکی ہے اس کی دوابھی ضرور پیداکی ہے، سوائے ایک بیماری کے‘‘، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! وہ کون سی بیماری ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’بڑھاپا‘‘۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔۲۔ اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ، ابوخزامه عن أبیه، اور ابن عباس‬ ؓ س‬ے بھی احادیث آئی ہیں۔