قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الطِّبِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّنَا​)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

2081.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهَا بِمَ تَسْتَمْشِينَ قَالَتْ بِالشُّبْرُمِ قَالَ حَارٌّ جَارٌّ قَالَتْ ثُمَّ اسْتَمْشَيْتُ بِالسَّنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ شَيْئًا كَانَ فِيهِ شِفَاءٌ مِنْ الْمَوْتِ لَكَانَ فِي السَّنَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ يَعْنِي دَوَاءَ الْمَشِيِّ

جامع ترمذی:

كتاب: طب (علاج ومعالجہ) کے احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: سنا کا بیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2081.   اسماء بنت عمیس‬ ؓ ک‬ہتی ہیں: رسول اللہﷺ نے ان سے پوچھاکہ ’’اسہال کے لیے تم کیا لیتی ہو؟‘‘ میں نے کہا: شبرم ۱؎، آپﷺ نے فرمایا: ’’وہ گرم اوربہانے والا ہے‘‘۔ اسماء کہتی ہیں: پھر میں نے سنا ۲؎ کا مسہل لیا تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’اگر کسی چیز میں موت سے شفا ہوتی توسنا میں ہوتی‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔۲۔ اس سے(یعنی سنا سے) مراد دست آوردواء ہے۔