قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: صفات وشمائل للنبیﷺ

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الطِّبِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ التَّدَاوِي بِالرَّمَادِ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2085.   حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سُئِلَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ جَرْحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: «مَا بَقِيَ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، كَانَ عَلِيٌّ يَأْتِي بِالمَاءِ فِي تُرْسِهِ وَفَاطِمَةُ تَغْسِلُ عَنْهُ الدَّمَ، وَأُحْرِقَ لَهُ حَصِيرٌ فَحُشِيَ بِهِ جُرْحَهُ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

جامع ترمذی:

كتاب: طب (علاج ومعالجہ) کے احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: راکھ سے علاج کابیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2085.   ابوحازم کہتے ہیں: سہل بن سعد ؓ سے پوچھاگیا اور میں سن رہا تھا کہ رسول اللہﷺ کے زخم کا کس چیز سے علاج کیا گیا؟ انہوں نے کہا: اس چیز کو مجھ سے زیادہ جاننے والا اب کوئی باقی نہیں ہے، علی ؓ اپنی ڈھال میں پانی لارہے تھے، جب کہ فاطمہ ؓ آپ کے زخم سے خون دھورہی تھیں اورمیں آپ کے لیے ٹاٹ جلا رہا تھا، پھر اسی کی راکھ سے آپﷺ کا زخم بھرا گیا۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔