قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْفِتَنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَ مُبِيْرٌ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2220.   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ قَالَ أَبُو عِيسَى يُقَالُ الْكَذَّابُ الْمُخْتَارُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ وَالْمُبِيرُ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ.

جامع ترمذی:

كتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں

 

کتاب تمہید  (

باب: قبیلہ بنو ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک ہلاک کر نے والاہوگا​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2220.   عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’بنو ثقیف میں ایک جھوٹا اور ہلاک کرنے والا ہوگا‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کذاب اورجھوٹے سے مراد مختاربن ابی عبید ثقفی اورہلاک کرنے والا سے مراد حجاج بن یوسف ہے ۱؎۔اس سند سے ہشام بن حسان سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حجاج نے جن لوگوں کو باندھ کر قتل کیا تھا انہیں شمارکیا گیا تو ان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزارتک پہنچی تھی۔