قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْرُّؤْيَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ ﷺ الْمِيزَانَ وَالدَّلْوَ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2290.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنَ المَدِينَةِ حَتَّى قَامَتْ بِمَهْيَعَةَ وَهِيَ الجُحْفَةُ وَأَوَّلْتُهَا وَبَاءَ المَدِينَةِ يُنْقَلُ إِلَى الجُحْفَةِ». «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ»

جامع ترمذی:

كتاب: خواب کے آداب واحکام

 

کتاب تمہید  (

باب: نبی اکرمﷺ کاخواب میں ترازواورڈول دیکھنے کابیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2290.   عبداللہ بن عمر ؓ سے نبی اکرمﷺ کے خواب کے بارے میں روایت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے پراگندہ بالوں والی ایک کالی عورت کو دیکھا جو مدینہ سے نکلی اورمہیعہ میں ٹھہرگئی (مهيعه، جحفه کا دوسرا نام ہے)، میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ وہ مدینہ کی (بخاروالی) وبا ہے جو جحفہ چلی جائے گی‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔