قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: صفات وشمائل للنبیﷺ

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الزُّهْدِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي مَعِيشَةِ النَّبِيِّ ﷺ وَأَهْلِهِ​)

حکم : ضعيف

ترجمۃ الباب:

2356.   حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَدَعَتْ لِي بِطَعَامٍ وَقَالَتْ مَا أَشْبَعُ مِنْ طَعَامٍ فَأَشَاءُ أَنْ أَبْكِيَ إِلَّا بَكَيْتُ قَالَ قُلْتُ لِمَ قَالَتْ أَذْكُرُ الْحَالَ الَّتِي فَارَقَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدُّنْيَا وَاللَّهِ مَا شَبِعَ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ مَرَّتَيْنِ فِي يَوْمٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

جامع ترمذی:

كتاب: زہد،ورع، تقوی اور پرہیز گاری کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: نبی اکرمﷺ اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی معاشی زندگی کابیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2356.   مسروق کہتے ہیں: میں ام المومنین عائشہ‬ ؓ ک‬ی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمارے لیے کھانا طلب کیا اورکہا کہ میں کسی کھانے سے سیرنہیں ہوتی ہوں کہ رونا چاہتی ہوں پھر رونے لگتی ہوں۔ میں نے سوال کیا: ایسا کیوں؟ عائشہ‬ ؓ ن‬ے کہا: میں اس حالت کو یاد کرتی ہوں جس پر رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوا، اللہ کی قسم! آپ روٹی اور گوشت سے ایک دن میں دوبار کبھی سیر نہیں ہوئے۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔