قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالرَّقَائِقِ وَالْوَرَعِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي شَأْنِ الصُّورِ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2431.   حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَلَاءِ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدْ الْتَقَمَ الْقَرْنَ وَاسْتَمَعَ الْإِذْنَ مَتَى يُؤْمَرُ بِالنَّفْخِ فَيَنْفُخُ فَكَأَنَّ ذَلِكَ ثَقُلَ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

جامع ترمذی:

كتاب: احوال قیامت ،رقت قلب اورورع کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: صور کابیان​

)
  باب تمہید

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2431.   ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں کیسے آرام کروں جب کہ صور والے اسرافیل ؑ صور کو منہ میں لیئے ہوئے اس حکم پر کان لگائے ہوئے ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم صادر ہو اور اس میں پھونک ماری جائے‘‘، گویا یہ امر صحابہ کرام‬ ؓ پ‬رسخت گذرا ،تو آپﷺ نے فرمایا: ’’کہو: (حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا) یعنی اللہ ہمارے لیے کافی ہے کیا ہی اچھا کار ساز ہے وہ اللہ ہی پر ہم نے توکل کیا۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث حسن ہے۔۲۔ یہ حدیث عطیہ سے کئی سندوں سے ابوسعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح مروی ہے۔