قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: منقطع قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الِاسْتِئْذَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجَالِسِ عَلَى الطَّرِيقِ​)

حکم : صحیح المتن

ترجمۃ الباب:

2726.   حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَرُدُّوا السَّلَامَ وَأَعِينُوا الْمَظْلُومَ وَاهْدُوا السَّبِيلَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

جامع ترمذی:

كتاب: استئذان كے احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: راستے میں بیٹھنے والے کابیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2726.   براء بن عازب ؓ کہتے ہیں: (سند میں اس بات کی صراحت ہے کہ ابواسحاق نے براء سے سنا نہیں ہے اس لیے سند میں انقطاع ہے ، لیکن شواہد کی بناء پر صحیح ہے، بالخصوص شعبہ کی روایت ہو نے کی وجہ سے قوی ہے) انصار کے کچھ لوگ راستے میں بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ ﷺ کا ان کے پاس سے گزرہوا تو آپﷺ نے ان سے فرمایا: ’’(یوں تو راستے میں بیٹھنا اچھا نہیں ہے) لیکن اگر تم بیٹھنا ضروری سمجھتے ہو تو سلام کا جواب دیا کرو، مظلوم کی مدد کیا کرو ، اور (بھولے بھٹکے ہوئے کو) راستہ بتا دیا کرو‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔۲۔ اس باب میں ابوہریرہ اور ابوشریح خزاعی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔