قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْآدَابِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ كَرَاهِيَةِ أَنْ يُقَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يُجْلَسُ فِيهِ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2750.   حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُقِمْ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ قَالَ وَكَانَ الرَّجُلُ يَقُومُ لِابْنِ عُمَرَ فَلَا يَجْلِسُ فِيهِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ

جامع ترمذی:

کتاب: آداب واحکام کا بیان 

  (

باب: کسی کو اٹھاکر اس کی جگہ بیٹھ جانا مکروہ ہے​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2750.   عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس جگہ نہ بیٹھ جائے‘‘۔راوی سالم کہتے ہیں: ابن عمر ؓ کے احترام میں آدمی ان کے آنے پر اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہو جاتا تھا لیکن وہ (اس ممانعت کی وجہ سے) اس کی جگہ نہیں بیٹھتے تھے۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔