قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْآدَابِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْجَمْعِ بَيْنَ اسْمِ النَّبِيِّ ﷺ وَكُنْيَتِهِ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2843.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ القَطَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُنْذِرٌ وَهُوَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وُلِدَ لِي بَعْدَكَ أُسَمِّيهِ مُحَمَّدًا وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: «فَكَانَتْ رُخْصَةً لِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ "

جامع ترمذی:

کتاب: آداب واحکام کا بیان 

  (

باب: نبی اکرم ﷺ کانام اور آپ کی کنیت دونوں ایک ساتھ رکھنا مکروہ ہے​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2843.   علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسولﷺ!آپﷺ کا کیا خیال ہے اگر آپﷺ کے انتقال کے بعد میرے یہاں لڑکا پیدا ہو تو کیا میں اس کا نام محمد اور اس کی کنیت آپﷺ کی کنیت پر رکھ سکتا ہوں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’ہاں‘‘۔ (ایسا کرسکتے ہو) علی ؓ کہتے ہیں: یہ صرف میرے لیے رخصت واجازت تھی۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔