قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَنَاقِبِ أَبِي مُحَمَّدٍ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَالْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍؓ)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

3769.   حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ النَّبَّالُ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَنِي أَبِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ طَرَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَى شَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ حَاجَتِي قُلْتُ مَا هَذَا الَّذِي أَنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَيْهِ قَالَ فَكَشَفَهُ فَإِذَا حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ عَلَى وَرِكَيْهِ فَقَالَ هَذَانِ ابْنَايَ وَابْنَا ابْنَتِيَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

جامع ترمذی:

كتاب: فضائل و مناقب کے بیان میں 

  (

باب: حسن بن علی اور حسین بن علیؓ کے مناقب

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

3769.   اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں: میں ایک رات کسی ضرورت سے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نکلے تو آپﷺ ایک ایسی چیز لپیٹے ہوئے تھے جسے میں نہیں جان پا رہا تھا کہ کیا ہے، پھر جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا: یہ کیا ہے جس کو آپﷺ لپیٹے ہوئے ہیں؟ تو آپﷺ نے اسے کھولا تو وہ حسن ؓ اورحسین ؓ تھے، آپﷺ کے کولہے سے چپکے ہوئے تھے، پھر آپﷺ نے فرمایا: ’’یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں، اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر جو ان سے محبت کرے‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔