قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابٌ فِي فَضْلِ الأَنْصَارِ وَقُرَيْشٍ)

حکم : منکر

ترجمۃ الباب:

3904.   حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا إِنَّ عَيْبَتِيَ الَّتِي آوِي إِلَيْهَا أَهْلُ بَيْتِي وَإِنَّ كَرِشِيَ الْأَنْصَارُ فَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ وَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ

جامع ترمذی:

كتاب: فضائل و مناقب کے بیان میں 

  (

باب: انصاروقریش کی فضیلت کے بارے میں

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

3904.   ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’میری جامہ دانی جس کی طرف میں پناہ لیتا ہوں یعنی میرے خاص لوگ میرے اہل بیت ہیں، اور میرے راز دار اور امین انصار ہیں تو تم ان کے خطا کاروں کو در گذر کرو اور ان کے بھلے لوگوں کی اچھائیوں کو قبول کرو‘‘۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث حسن ہے۔۲۔ اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔