قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبِنَاءِ عَلَى الصَّلَاةِ)

حکم : ضعیف

ترجمة الباب:

1221 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَصَابَهُ قَيْءٌ أَوْ رُعَافٌ أَوْ قَلَسٌ أَوْ مَذْيٌ فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ ثُمَّ لِيَبْنِ عَلَى صَلَاتِهِ وَهُوَ فِي ذَلِكَ لَا يَتَكَلَّمُ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: نماز پر بنا کرنے کا بیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1221.   حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’جسے نماز میں قے آ جائے یا نکسیر پھوٹے یا کوئی چیز پیٹ میں سے منہ میں آئے یا مذی نکلے تو اسے چاہیے کہ( نماز چھوڑ کر) چلا جائے، وضو کرے، پھر اپنی نماز پر بنا کر لے، بشرطیکہ اس اثنا میں کلام نہ کرے۔‘‘