قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ مَا جَاءَ فِيمَا إِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدَانِ فِي يَوْمٍ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

1310 .   حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ هَلْ شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ فِي يَوْمٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَكَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ قَالَ صَلَّى الْعِيدَ ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ ثُمَّ قَالَ مَنْ شَاءَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُصَلِّ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: ایک دن میں دو عیدوں کا جمع ہونا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1310.   ایاس بن ابو رملہ شامی رحمۃ اللہ  علیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ایک آدمی کو زید بن ارقم ؓ سے سوال کرتے سنا: کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک دن میں دو عیدوں ( جمعہ اور عید) میں حاضر ہوئے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: پھر رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے؟ فرمایا: آپ ﷺ نے عید کی نماز ادا فرمائی، پھر جمعے کی رخصت دی، پھر فرمایا: ’’جو کوئی (جمعے کی نماز) پڑھنا چاہے پڑھ لے۔‘‘