قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: صفات و شمائل للنبی صلی اللہ علیہ وسلم

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي غُسْلِ النَّبِيِّﷺ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

1467 .   حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خِذَامٍ قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: لَمَّا غَسَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ يَلْتَمِسُ مِنْهُ مَا يُلْتَمَسُ مِنَ الْمَيِّتِ، فَلَمْ يَجِدْهُ، فَقَالَ: «بِأَبِي الطَّيِّبُ، طِبْتَ حَيًّا، وَطِبْتَ مَيِّتًا»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب : نبی ﷺ کو غسل دیے جانے کا بیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1467.   حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے جب نبی ﷺ کو غسل دیا تو انہوں نے وہ چیز معلوم کرنی چاہی جومیت سے ظاہر ہوا کرتی ہے لیکن ایسی کوئی چیز محسوس نہ ہوئی تو انہوں نے فرمایا: اس پاک ہستی پر میرا باپ قربان ہو! (اے نبی!) آپ زندگی میں بھی پاک تھے وفات کے بعد بھی پاک ہیں۔