قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي شُهُودِ الْجَنَائِزِ)

حکم : ضعیف

ترجمة الباب:

1478 .   حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «مَنِ اتَّبَعَ جِنَازَةً فَلْيَحْمِلْ بِجَوَانِبِ السَّرِيرِ كُلِّهَا؛ فَإِنَّهُ مِنَ السُّنَّةِ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ فَلْيَتَطَوَّعْ، وَإِنْ شَاءَ فَلْيَدَعْ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب : جنازے کے ساتھ جانا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1478.   حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: جو شخص جنازہ اٹھائے (کندھا دے) اسے چاہیے کہ چار پائی چاروں طرف سے (باری باری) اٹھائے۔ کیوں کہ یہ سنت ہے۔ اس کے بعد اگر چاہے تو مزید ثواب حاصل کر لے، چاہے تو رہنے دے۔