موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: صفات و شمائل للنبی صلی اللہ علیہ وسلم
سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابُ فَضْلِ سَلْمَانَ وَأَبِي ذَرٍّ وَالْمِقْدَادِ)
حکم : حسن صحیح
150 . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كَانَ أَوَّلَ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعَمَّارٌ، وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ، وَصُهَيْبٌ، وَبِلَالٌ، وَالْمِقْدَادُ، فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِعَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِقَوْمِهِ، وَأَمَّا سَائِرُهُمْ فَأَخَذَهُمُ الْمُشْرِكُونَ، وَأَلْبَسُوهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيدِ، وَصَهَرُوهُمْ فِي الشَّمْسِ، فَمَا مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاهُمْ عَلَى مَا أَرَادُوا، إِلَّا بِلَالًا، فَإِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللَّهِ، وَهَانَ عَلَى قَوْمِهِ، فَأَخَذُوهُ فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ، فَجَعَلُوا يَطُوفُونَ بِهِ فِي شِعَابِ مَكَّةَ، وَهُوَ يَقُولُ: أَحَدٌ أَحَدٌ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت
باب: حضرت سلمان، ابوذر اور مقداد کے فضائل
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
150. حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سب سے پہلے اسلام کا اظہار کرنے والے سات حضرات ہیں۔ رسول اللہ ﷺ، ابو بکر، عمار، ان کی والدہ سمیہ، صہیب، بلال اور مقداد ؓ۔ رسول اللہ کو تو اللہ نے آپ ﷺ کے چچا ابو طالب کے ذریعے سے (مشرکین کی اذیتوں سے) محفوظ رکھا، ابو بکر ؓ کو بھی اللہ نے ان کی قوم کے ذریعے سے محفوظ رکھا، باقی جو حضرات تھے انہیں مشرکوں نے پکڑ لیا، انہیں لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں ڈال دیا، چنانچہ ان میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا جس نے (جان بچانے کے لئے زبان سے) مشرکین کے مطلب کی بات نہ کہہ دی ہو، سوائے بلال ؓ کے۔ انہوں نے اللہ کی راہ میں اپنی جان کی پروا نہ کی اور ان کی قوم کی نظر میں بھی ان کی کوئی قدر نہ تھی (اس لئے کوئی ان کی حمایت میں نہیں بولتا تھا) کافروں نے انہیں پکڑ کر بچوں کے حوالے کر دیا۔ وہ انہیں مکہ کی گھاٹیوں میں لیے (گھسیٹتے) پھرتے تھے اور حضرت بلال ؓ کہتے تھے: اَحَد اَحَد (اللہ ایک ہے، ایک ہے۔)