Ibn-Majah:
The Book of the Sunnah
(Chapter: The Virtues Of Sa’d Bin Muadh)
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
ترجمۃ الباب:
158.
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سعد بن معاذ ؓ کی وفات پر رحمان کا عرش بھی جھوم اٹھا۔‘‘
تشریح:
(1) مومن کی روح جب آسمان پر جاتی ہے تو جہاں جہاں سے گزرتی ہے، سب فرشتے خوش ہوتے ہیں۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات پر جب ان کی روح مبارک آسمانوں پر گئی تو عرش الہی کو بھی اس کی آمد پر خوشی ہوئی اور اس میں خوشی کے اظہار کے طور پر حرکت پیدا ہوئی۔ (2) اللہ کی مخلوق جو انسان کی نظر میں بے جان اور سمجھ بوجھ سے خالی ہے، حقیقت میں ایسے نہیں، بلکہ بے جان مخلوق میں بھی شعور اور احساس ہے لیکن وہ انسان کے حواس سے بالاتر ہے۔ (3) بعض علماء نے عرش کی خوشی سے مقرب فرشتوں کی خوشی مراد لی ہے۔ واللہ أعلم۔
الحکم التفصیلی:
الارواه الغليل:713
قلت : وله شاهد آخر من حديث أنس قال : " افتخر الحيان من الأوس والخزرج فقال الأوس : منا غسيل الملائكة حنظلة بن الراهب ومنا من اهتز له عرش الرحمن ومنا من حمته الدبر عاصم ابن ثابت قال : فقال الخزرجيون : منا أربعة جمعوا القرآن لم يجمعه أحد غيرهم : زيد بن ثابت وأبو زيد وأبي بن كعب ومعاذ بن جبل ) . أخرجه ابن عساكر ( 2 / 296 / 1 ) وقال : " هذا حديث حسن صحيح " . وهو كما قال . ( تنبيه ) عزا المصنف الحديث للطيالسي وقد راجعت فيه مسند الزبير وابنه عبد الله ومسند عبد الله بن عباس وأبي أسيد وغيرهم فلم أجده ولم يورده مرتبه الشيخ البنا في كتاب الجنائز ولا في ترجمة حنظلة من " الفضائل " فالله أعلم
ترقیم حرف کمپنی (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
164
٧
ترقيم دار الرّسالة العالمية (جامع خادم الحرمين للسنة النبوية)
ترقیم دار الرسالہ العالمیہ (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
158
٨
ترقيم فؤاد عبد الباقي (دار السلام)
ترقیم فواد عبد الباقی (دار السلام)
158
تمہید کتاب
تمہید باب
٭ حضرت سعد بن معاذ :نام و نسب: سعد بن معاذ بن نعمان بن امری القیس بن زید بن عبدالاشھل الانصاری، آپ کی کنیت ابوعمرو اور والدہ کا نام کبثہ بنت رافع ہے۔ آپ مدینہ منورہ میں نبی اکرم ﷺ کے مقرر کردہ داعی اسلام حضرت معصب رضی اللہ عنہ کی تبلیغ سے مسلمان ہوئے، اسلام لانے کے بعد قبیلے والوں کو مخاطب کر کے فرمایا: تم سب خواتین و حضرات سے بات کرنا میرے لیے حرام ہے حتی کہ تم مسلمان ہو جاؤ، لہذا وہ سب مسلمان ہو گئے، اس طرح اسلام کے لیے آپ بڑے بابرکت ثابت ہوئے۔ جنگ خندق میں ایک تیر آپ کو لگا جس سے خون بند نہیں ہوتا تھا، نبی کریمﷺنے آپ کا خیمہ مسجد نبوی میں لگوا دیا تاکہ تیمارداری میں سہولت رہے پھر وہ زخم بند ہو گیا۔ تیر لگنے کے بعد حضرت سعد نے یہ دعا مانگی: الہی اگر قریش کے ساتھ جنگ باقی رہے تو مجھے زندہ رکھ کیونکہ جس قوم نے تیرے نبی کو تکالیف دیں، اسے جھٹلایا اور مکہ سے ہرت پر مجبور کیا، مجھے اس سے جنگ کرنا بے حد پسند ہے اور اگر ان کے ساتھ جنگ ختم ہو گئی ہے تو میرے اس زخم کو شہادت کا باعث بنا اور بنو قریظہ کے یہودیوں کے بارے میں میری آنکھیں ٹھنڈی کیے بغیر مجھے موت نہ دینا۔ پھر قریظہ کا خاتمہ ہو گیا تو آپ کا زخم دوبارہ پھوٹ پڑا اور اسی سے آپ شہید ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے نماز جنازہ پڑھائی آپ کو دفن کر کے لوٹے تو آپ کی آنسو آپ کی داڑھی مبارک پر گر رہے تھے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی وفات 5 ہجری میں ماہ شوال میں ہوئی، اس وقت آپ کی عمر 37 برس تھی۔
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سعد بن معاذ ؓ کی وفات پر رحمان کا عرش بھی جھوم اٹھا۔‘‘
حدیث حاشیہ:
(1) مومن کی روح جب آسمان پر جاتی ہے تو جہاں جہاں سے گزرتی ہے، سب فرشتے خوش ہوتے ہیں۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات پر جب ان کی روح مبارک آسمانوں پر گئی تو عرش الہی کو بھی اس کی آمد پر خوشی ہوئی اور اس میں خوشی کے اظہار کے طور پر حرکت پیدا ہوئی۔ (2) اللہ کی مخلوق جو انسان کی نظر میں بے جان اور سمجھ بوجھ سے خالی ہے، حقیقت میں ایسے نہیں، بلکہ بے جان مخلوق میں بھی شعور اور احساس ہے لیکن وہ انسان کے حواس سے بالاتر ہے۔ (3) بعض علماء نے عرش کی خوشی سے مقرب فرشتوں کی خوشی مراد لی ہے۔ واللہ أعلم۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سعد بن معاذ کی موت کے وقت رحمن کا عرش جھوم اٹھا‘‘۱؎ ۔
حدیث حاشیہ:
۱؎ : یعنی جب ان کی پاکیزہ روح وہاں پہنچی تو خوشی کے سبب سے عرش حرکت میں آ گیا، یا اس سے کنایہ ہے رب العرش کے خوش ہونے کا، نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ روحیں عرش تک جاتی ہیں، اس لئے کہ اللہ رب العزت کا دربار خاص وہیں لگتا ہے۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
It was narrated that Jâbir said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The Throne of the Most Merciful trembled upon the death of Sa’d bin Mu’âdh.” (Sahih)