موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِﷺ)
حکم : صحیح
1635 . حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ نَزُورُهَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا قَالَ فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ فَقَالَا لَهَا مَا يُبْكِيكِ فَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ قَالَتْ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ وَلَكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدْ انْقَطَعَ مِنْ السَّمَاءِ قَالَ فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعَهَا
سنن ابن ماجہ:
کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل
باب: رسول اللہ ﷺ کی وفات اور آپ کے دفن کا بیان
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1635. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے رحلت فرما جانے کے بعد (ایک بار) حضرت ابو بکر ؓ نے حضرت عمر ؓ سے کہا: چلیے ام ایمن کے ہاں چلیں اور ان سے ملاقات کر آئیں جس طرح رسول اللہ ﷺ ان سے ملاقات کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ انس ؓ نے فرمایا: جب ہم لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ (رسول اللہ ﷺ کو یاد کر کے) اشک بار ہوگئیں۔ دونوں حضرات نے فرمایا: آپ کیوں رو رہی ہیں؟ اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کے رسول ﷺ کے لیے (دنیا کی متاع اور آسائشوں سے کہیں) بہتر ہے۔ ام ایمن ؓ نے فرمایا: یہ تو میں بھی جانتی ہوں کہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کے رسول ﷺ کے لیے بہتر ہے لیکن میں تو اس لیے روتی ہوں کہ (رسول اللہ ﷺ کی وفات سے) آسمان سے وحی آنا بند ہوگئی ہے۔ ان کی اس بات سے شیخین ؓ کو بھی رونا آ گیا اور وہ بھی رونے لگے۔