قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَاب الصِّيَامِ (بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ أَفْطَرَ نَاسِيًا)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

1674 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ أَفْطَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ غَيْمٍ ثُمَّ طَلَعَتْ الشَّمْسُ قُلْتُ لِهِشَامٍ أُمِرُوا بِالْقَضَاءِ قَالَ فَلَا بُدَّ مِنْ ذَلِكَ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت

 

تمہید کتاب  (

باب: جس نے بھول کر روزہ کھول دیا (اس کے لئے کیا حکم ہے)

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1674.   حضرت اسماء بنت ابو بکر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک ابر آلود دن میں ہم نے روزہ کھول دیا (یہ سمجھے کہ سورج غروب ہو چکا ہے) لیکن پھر (بادل ہٹ گئے اور) سورج نکل آیا۔ (ابواسامہ کہتے ہیں:) میں نے ہشام بن عروہ سے کہا: کیا انہیں (روزے کی) قضا کا حکم دیا گیا تھا؟ انہوں نے کہا: یہ تو ضروری تھا۔