قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن ابن ماجه: كِتَاب الصِّيَامِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا وَهُوَ يُرِيدُ الصِّيَامَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1704.   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ الرَّجُلِ يُصْبِحُ وَهُوَ جُنُبٌ يُرِيدُ الصَّوْمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ الْوِقَاعِ لَا مِنْ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيُتِمُّ صَوْمَهُ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت

 

کتاب تمہید  (

باب: جو شخص روزہ رکھنا چاہتاہے اگر اسے جنابت کی حالت میں صبح ہو جائےتو کیا حکم ہے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

1704.   حضرت نافع رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے ام المومنین ام سلمہ‬ ؓ س‬ے دریافت کیا کہ اگر آدمی کو جنابت کی حالت میں صبح ہو جائے اور وہ روزہ رکھنا چاہتا ہو (تو کیا حکم ہے؟) ام المومنین نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کو بھی اس حال میں صبح ہو جاتی تھی کہ آپ کو خواب کی وجہ سے نہیں، بلکہ مباشرت کی وجہ سے غسل کی حاجت ہوتی تھی۔ آپ ﷺ غسل کر کے اپنا روزہ مکمل فرما لیتے تھے۔