قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَاب الصِّيَامِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

1708 .   حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ فَذَلِكَ صَوْمُ الدَّهْرِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا(الانعام:160) فَالْيَوْمُ بِعَشْرَةِ أَيَّامٍ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت

 

تمہید کتاب  (

باب: ہر مہینے تین روزے رکھنا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1708.   حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے ہر مہینے میں تین روزے رکھے تو یہی ہمیشہ کے روزے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کی تائید نازل فرما دی: ﴿مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا﴾ ’’جو شخص نیکی لے کر حاضر ہوا، اس کے لیے اس کا دس گنا (ثواب) ہے۔‘‘ چنانچہ ایک دن (کے روزے) سے دس دن کا ثواب ملتا ہے۔