موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ مَنْ تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ)
حکم : صحیح
1841 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِعَامِلٍ عَلَيْهَا، أَوْ لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ لِغَنِيٍّ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ فَقِيرٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ فَأَهْدَاهَا لِغَنِيٍّ، أَوْ غَارِمٍ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: زکاۃ کے احکام و مسائل
باب: کسے زکاۃ لینا جائز ہے؟
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1841. حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ افراد کے علاوہ کسی امیر آدمی کے لیے صدقہ (اور زکاۃ) کھانا حلال نہیں۔ (1) صدقہ وصول کرنے والا (سرکاری ملازم)، (2) اللہ کی راہ میں جنگ کرنے والا (مجاہد)، (3) وہ دولت مند جو صدقے کی چیز اپنے مال کے بدلے خرید لیتا ہے۔ (4) یا (یہ صورت کہ) کسی فقیر کو صدقہ دیا گیا اور اس نے وہ کسی غنی کو تحفہ کے طور پر دے دیا،(5) دیوالیہ (مقروض۔)