موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ صَدَاقِ النِّسَاءِ)
حکم : حسن صحیح
1887 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لَا تُغَالُوا صَدَاقَ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا، أَوْ تَقْوًى عِنْدَ اللَّهِ، كَانَ أَوْلَاكُمْ وَأَحَقَّكُمْ بِهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَصْدَقَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ، وَلَا أُصْدِقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ أَكْثَرَ مِنَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُثَقِّلُ صَدَقَةَ امْرَأَتِهِ حَتَّى يَكُونَ لَهَا عَدَاوَةٌ فِي نَفْسِهِ، وَيَقُولُ: قَدْ كَلِفْتُ إِلَيْكِ عَلَقَ الْقِرْبَةِ، أَوْ عَرَقَ الْقِرْبَةِ وَكُنْتُ رَجُلًا عَرَبِيًّا مَوْلِدًا، مَا أَدْرِي مَا عَلَقُ الْقِرْبَةِ، أَوْ عَرَقُ الْقِرْبَةِ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل
باب: عورتوں کا حق مہر
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1887. حضرت ابوالعجفاء سلمی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا: عورتوں کے حق مہر میں غلو نہ کرو، اگر یہ کام (بہت زیادہ حق مہر مقرر کرنا) دنیا میں عزت کا باعث ہوتا، یا اللہ کے ہاں تقویٰ (اور نیکی کا شمار) ہوتا تو حضرت محمد ﷺ زیادہ حق رکھتے تھے کہ ایسا کرتے۔ بارہ اوقیہ سے زیادہ نہ نبی ﷺ نے اپنی کسی زوجہ محترمہ کو حق مہر دیا اور نہ آپ کی کسی بیٹی کو ملا۔ آدمی اپنی بیوی کے لیے بہت زیادہ حق مہر مقرر کر لیتا ہے۔ بعد میں اس کے دل میں بیوی سے نفرت کا باعث بن جاتا ہے۔ اور وہ کہتا ہے: میں نے تیرے لیے مشکیزے کی رسی اٹھائی۔ یا مشک کا پسینہ برداشت کیا۔ ابوالعجفاء ؓ نے فرمایا: میں مولد عربی تھا، (اس لیے اس محاورے کو سمجھ نہیں سکا۔) معلوم نہیں علق القربة (مشک کی رسی) یا عرق القربة (مشک کا پسینہ)، اس کا کیا مطلب ہے۔؟