قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابُ مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً أَوْ سَيِّئَةً)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

204 .   حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَحَثَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَجُلٌ، عِنْدِي كَذَا وَكَذَا، قَالَ، فَمَا بَقِيَ فِي الْمَجْلِسِ رَجُلٌ إِلَّا تَصَدَّقَ عَلَيْهِ بِمَا قَلَّ أَوْ كَثُرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَنَّ خَيْرًا فَاسْتُنَّ بِهِ، كَانَ لَهُ أَجْرُهُ كَامِلًا، وَمِنْ أُجُورِ مَنِ اسْتَنَّ بِهِ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنِ اسْتَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَاسْتُنَّ بِهِ، فَعَلَيْهِ وِزْرُهُ كَامِلًا، وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِي اسْتَنَّ بِهِ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت 

  (

باب: اس شخص کا بیان جس نے اچھا یا برا طریقہ جاری کیا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

204.   حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے (حاضرین کو) اس کی مدد کی ترغیب دلائی۔ (حاضرین میں سے) ایک آدمی نے کہا: میرے پاس اتنا مال ہے (میں اسے بطور صدقہ دیتا ہوں) چنانچہ مجلس میں سے ہر شخص نے اسے (حسب استطاعت ) کم یا زیادہ صدقہ دیا، کوئی بھی صدقہ دیے بغیر نہ رہا۔ تب اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے اچھا طریقہ ایجاد کیا، پھر اس (طریقہ) پر عمل کیا گیا، اسے اس کا پورا ثواب ملے گا، اور ان لوگوں (کے برابر عمل) کا ثواب بھی، جنہوں نے اس کی پیروی کی، اور ان کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس نے برا طریقہ (گناہ کا کام) شروع کیا، پھر اس (طریقہ) پر عمل کیا گیا، اسے اس کا پورا گناہ ہوگا۔ اور ان لوگوں (کے برابر عمل) کا گناہ بھی، جنہوں نے اس کی پیروی کی، البتہ ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔‘‘