موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابُ اللِّعَانِ)
حکم : صحیح
2068 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا فِي الْمَسْجِدِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ، قَتَلْتُمُوهُ، وَإِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ، وَاللَّهِ لَأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَاتِ اللِّعَانِ، ثُمَّ جَاءَ الرَّجُلُ بَعْدَ ذَلِكَ يَقْذِفُ امْرَأَتَهُ، فَلَاعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَقَالَ: «عَسَى أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ» ، فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا
سنن ابن ماجہ:
کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل
باب: لعان کا بیان
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2068. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جمعے کی رات ہم لوگ مسجد میں تھے کہ ایک آدمی نے کہا: اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے ساتھ کسی (غیر) مرد کو (گناہ کی حالت میں) دیکھ کر قتل کر دے تو تم لوگ اسے (قصاص کے طور پر) قتل کر دو گے۔ اگر وہ (اپنی بیوی کے مجرم ہونے کی) بات کرے تو تم اسے (الزام تراشی کے طور پر) کوڑے لگاؤ گے۔ قسم ہے اللہ کی! میں یہ بات ضررو نبی ﷺ سے عرض کروں گا۔ آخر کار اس نے نبی ﷺ سے ذکر کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے لعان کی آیت نازل فرما دیں۔ اس کے بعد اس آدمی نے آخر اپنی بیوی پر الزام لگایا تو نبی ﷺ نے ان دونوں (میاں بیوی) کے درمیان لعان کروا دیا۔ اور فرمایا: شاید اس عورت کے ہاں سیاہ فام، بچہ پیدا ہو۔ چنانچہ سیاہ فام اور گھنگھریالے بالوں والا بچہ ہی پیدا ہوا۔