موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابُ خِيَارِ الْأَمَةِ إِذَا أُعْتِقَتْ)
حکم : صحیح
2075 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا، يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا وَيَبْكِي، وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى خَدِّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: «يَا عَبَّاسُ، أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ، وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا؟» فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ رَاجَعْتِيهِ، فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: «إِنَّمَا أَشْفَعُ» ، قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل
باب: جب لونڈی کو آزاد کیا جائے تو اسے ( نکاح قائم رکھنے یا فسخ کرنے کا ) اختیار ہے
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2075. حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت بریرہ ؓ کے شوہر غلام تھے۔ انہیں مغیث ؓ کہتے تھے۔ (مجھے وہ منظر یاد ہے) گویا میں ان (مغیث) کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ بریرہ ؓ کے پیچھے روتے پھر رہے ہیں اور ان کے رخساروں پر آنسو بہہ رہے ہیں تو نبی ﷺ نے حضرت عباس ؓ سے فرمایا: اے عباس! کیا آپ کو تعجب نہیں ہوتا کہ مغیث بریرہ سے (شدید) محبت کرتا ہے اور بریرہ ؓ مغیث ؓ سے (شدید) نفرت کرتی ہے؟ (ایک بار) نبی ﷺ نے حضرت بریرہ ؓ سے فرمایا: کاش! تم ان سے رجوع کر لو، آخر وہ تمہارے بچوں کے باپ ہیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسولﷺ! آپ مجھے حکم فرما رہے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: میں تو سفارش کرتا ہوں۔ تو انہوں نے کہا: مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں۔