موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابُ الرَّجُلِ يَأْمُرُهُ أَبُوهُ بِطَلَاقِ امْرَأَتِهِ)
حکم : صحیح
2089 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَجُلًا أَمَرَهُ أَبُوهُ أَوْ أُمُّهُ - شَكَّ شُعْبَةُ - أَنْ يُطَلِّقَ امْرَأَتَهُ، فَجَعَلَ عَلَيْهِ مِائَةَ مُحَرَّرٍ، فَأَتَى أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي الضُّحَى وَيُطِيلُهَا، وَصَلَّى مَا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: «أَوْفِ بِنَذْرِكَ، وَبِرَّ وَالِدَيْكَ» وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، فَحَافِظْ عَلَى وَالِدَيْكَ أَوِ اتْرُكْ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل
باب: اگر مرد کو اس کا والد بیوی کو طلاق دینے کا حکم دے تو ؟
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2089. حضرت ابوعبدالرحمٰن ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو اس کے والد یا والدہ نے حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو اس نے سو غلام آزاد کرنے کی نذر مان لی۔ (اگر وہ بیوی کو طلاق دے تو سو غلام آزاد کرے گا۔) وہ حضرت ابودرداء ؓ کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہ ضحیٰ (چاشت) کی نماز پڑھ رہے ہیں اور اسے طویل کرتے جاتے ہیں۔ (ظہر کی نماز کے بعد بھی) انہوں نے ظہر سے عصر تک (نفل) نماز ادا کی۔ (آخر جب موقع ملا تو) اس نے ان سے مسئلہ پوچھا۔ حضرت ابودرداء ؓ نے فرمایا: اپنی نذر پوری کر اور والدین کی فرمانبرداری کر۔ حضرت ابودرداء ؓ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے (یہ فرمان) سنا ہے: باپ جنت کا درمیان والا دروازہ ہے۔ اب (تمہاری مرضی ہے) اپنے والدین کا خیال رکھو یا نہ رکھو۔