قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْكَفَّارَاتِ (بَابُ مَنْ نَذَرَ أَنْ يَحُجَّ مَاشِيًا)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2135 .   حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْخًا يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ، فَقَالَ: «مَا شَأْنُ هَذَا؟» قَالَ ابْنَاهُ: نَذْرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «ارْكَبْ أَيُّهَا الشَّيْخُ، فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكَ وَعَنْ نَذْرِكَ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: کفارے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: پیدل حج کی نذر ماننا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2135.   حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک بوڑھے کو اپنے دو بیٹوں کے درمیان (ان کا سہارا لے کر) چلتے دیکھا تو فرمایا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ اس کے بیٹوں نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! اس نے نذر مان رکھ ہے۔ آپ نے فرمایا: بڑے میاں! سوار ہو جاؤ! اللہ تعالیٰ تم سے اور تمہاری نذر سے مستغنی ہے۔