قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ التِّجَارَاتِ (بَابُ النَّهْيِ أَنْ يُصِيبَ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ صَاحِبِهَا)

حکم : ضعیف

ترجمة الباب:

2303 .   حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ سَلِيطِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الطُّهَوِيِّ عَنْ ذُهَيْلِ بْنِ عَوْفِ بْنِ شَمَّاخٍ الطُّهَوِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ إِذْ رَأَيْنَا إِبِلًا مَصْرُورَةً بِعِضَاهِ الشَّجَرِ فَثُبْنَا إِلَيْهَا فَنَادَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْإِبِلَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ هُوَ قُوتُهُمْ وَيُمْنُهُمْ بَعْدَ اللَّهِ أَيَسُرُّكُمْ لَوْ رَجَعْتُمْ إِلَى مَزَاوِدِكُمْ فَوَجَدْتُمْ مَا فِيهَا قَدْ ذُهِبَ بِهِ أَتُرَوْنَ ذَلِكَ عَدْلًا قَالُوا لَا قَالَ فَإِنَّ هَذَا كَذَلِكَ قُلْنَا أَفَرَأَيْتَ إِنْ احْتَجْنَا إِلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ فَقَالَ كُلْ وَلَا تَحْمِلْ وَاشْرَبْ وَلَا تَحْمِلْ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: مالک کی اجازت کے بغیر جانور وں کا دودھ لے لینا منع ہے

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2303.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک سفر میں ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ (راستے میں ایک جگہ) ہمیں کیکر کے درخٹوں تلے کچھ تھن بندھی اونٹنیاں نظر آئیں۔ ہم ان کے پاس جمع ہو گئے۔ ( اس پر) ہمیں رسول اللہ ﷺ نے آواز دی تو ہم آپ کے پاس واپس آ گئے۔ آپ نے فرمایا: یہ اونٹنیاں ایک مسلمان گھرانے کی ہیں۔ اللہ کے بعد یہی ان کے لیے خوراک کا ذریعہ اور برکت کا باعث ہیں۔ کیا تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ تم اپنے توشہ دانوں کے پاس پہنچو تو دیکھو کہ ان میں جو کچھ تھا، کوئی لے گیا ہے؟ کیا تم اسے انصاف سمجھتے ہو؟ صحابہ رضی اللہ عنھم نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ہم نے عرض کیا: اگر ہمیں کھانے پینے کی ضرورت ہو تو (ہم کیا کریں؟) آپ نے فرمایا: کھا لو اور ساتھ نہ لے جاؤ، پی لو اور ساتھ نہ لے جاؤ۔