موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الصَّدَقَاتِ (بَابُ الْكَفَالَةِ)
حکم : صحیح
2406 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّارَوَرْدِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيكَهُ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أُفَارِقُكَ حَتَّى تَقْضِيَنِي أَوْ تَأْتِيَنِي بِحَمِيلٍ فَجَرَّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمْ تَسْتَنْظِرُهُ فَقَالَ شَهْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا أَحْمِلُ لَهُ فَجَاءَهُ فِي الْوَقْتِ الَّذِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَا قَالَ مِنْ مَعْدِنٍ قَالَ لَا خَيْرَ فِيهَا وَقَضَاهَا عَنْهُ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: صدقہ وخیرات سے متعلق احکام ومسائل
باب: مقروض کی ضمانت دینا
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2406. حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی کے ذمے دوسروں کے دس دینار تھے۔ وہ ہر وقت مقروض کے ساتھ رہنے لگا۔ مقروض نے کہا: تجھے دینے کو میرے پاس کچھ نہیں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تجھے نہیں چھوڑوں گا حتی کہ تو میرا قرض ادا کرے یا کوئی ضامن پیش کرے۔ وہ اسے کھینچ کر نبی ﷺ کی خدمت میں لے آیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: تو اسے کتنے عرصے کی مہلت دیتا ہے؟ اس نے کہا: ایک مہینے کی۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: میں اس کی ذمے داری اٹھاتا (ضمانت دیتا) ہوں۔ مقروض نبی ﷺ کے فرمائے ہوئے وقت پر حاضر ہو گیا۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا: تجھے یہ مال کہاں سے ملا؟ اس نے کہا: ایک کان سے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اس میں کوئی بھلائی نہیں۔ اور خود اس کا قرض ادا کر دیا۔